Alhikmah International

اسلامی ریاست میں خارجہ پالیسی کے اصول

ایک اہم سوال جس پر بحث کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ملک جو اسلامی نظریے کو لے کر اٹھے اس کی خارجہ پالیسی کے کیا اصول ہوں؟  ملت اور ریاست کے تعلقات دوسرے ممالک اور اقوام سے کن بنیادوں پر استوار ہوں؟ ان اصولوں کی ہم مختصر وضاحت کرتے ہیں:

        اس سلسلے میں سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ ملت اسلامیہ اور اسلامی ریاست کی حیثیت خدا کی علمبردار اور اس کے پیغام کے داعی کی ہے۔ قرآن پاک اس کو “امت وسط” کہتا ہے اور اس کے منصب کو “شہادت حق” سے تعبیر کرتا ہے۔ یعنی یہ وہ امت ہے جو اللہ تعالی کی طرف سے پوری انسانیت پر گواہ بنائی گئی ہے، جو اپنے قول و عمل، پالیسی اور پروگرام کے ذریعے خدا کے دین کی شہادت دیتی ہے۔ اس لیے اسلامی ریاست میں خارجہ پالیسی کا پہلا اصول یہ قرار پاتا ہے کہ یہ دین اسلام کی تبلیغ اور حق کی شہادت دینے والی ہو۔ اس پالیسی میں کوئی ایسا رویہ اختیار نہ کیا جائے جو اس حیثیت کو مجروح کرنے والا ہو۔

       وطن کی محبت اور اس کے مفاد کا تحفظ اس کی دوسری بنیاد ہے۔ وطن کی محبت سے مراد یہ ہے کہ ملک اور اس میں بسنے والوں کی حقیقی خیرخواہی، ان کے مفادات کا تحفظ اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا اس پالیسی کے اولین فرائض میں سے ہے۔  وطن سے سچی محبت ایک فطری عمل ہے، لیکن یہاں اسلام کے نقطہ نظر میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ اسلام “میرا ملک!  حق یا ناحق” کے اصول کو صحیح نہیں سمجھتا، بلکہ وہ حق کی صورت میں ہر ممکن تعاون و جدوجہد اور ناحق کی صورت میں مخالفت اور درست کرنے کی کوشش کو فرض کرتا ہے۔

جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:

(انْصُرْ أَخَاکَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا. فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! أَنْصُرُهُ إذَا کَانَ مَظْلُوْمًا، أَرَأَيْتَ إنْ کَانَ ظَالِمًا کَيْفَ أَنْصُرُهُ؟ قَالَ : تَحْجُزُهُ أَوْ تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ، فَإنَّ ذَلِکَ نَصْرُهُ.)الصحیح البخاري الرقم : 6552

اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! اگر وہ مظلوم ہو تب تو میں اس کی مدد کروں لیکن مجھے یہ بتایئے کہ جب وہ ظالم ہو تو میں اس کی مدد کیسے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اسے ظلم سے باز رکھو، یا فرمایا : اُسے (اس ظلم سے) روکو، کیونکہ یہ بھی اس کی مدد ہے۔

یہی اصول اسلام خارجہ پالیسی کے لیے بھی تجویز کرتا ہے۔

        اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ پوری امت مسلمہ کی وحدت کا داعی ہے۔ اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی کی تدبیر ایسے اختیار کی جائے جو تمام مسلمانوں کو جوڑنے والی اور ان میں تعاون اور بھائی چارہ قائم کرنے والی ہو۔ اس لیے کہ اگر مسلمانوں کی بہت سی ریاستیں ہوتو تو ان کو ایسی دولت مشترکہ بنانی چاہیے جو ہر حیثیت سے ان کو ایک دوسرے کا معاون اور مددگار بنا دے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:

(اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً  ‌ۖ وَّاَنَا رَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡنِ‏ )سورة الأنبياء: 92

بیشک یہ ہے تمہاری امت جو ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمہارا رب ہوں، سو میری عبادت کرو۔

(وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌)سورة آل عمران: 103

اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہوجاؤ۔

       اسلام فتنہ و فساد کو ختم کرنے اور امن و امان قائم کرنے کیلئے آیا ہے۔ اس لیے اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی کا مقصد پورے عالم میں امن و امان قائم رکھنا ہے۔ اسلام نے ایسے اسباب کو بھی دور کرنے کی کوشش کی ہے جو امن کے لیے  خطرہ ہیں۔ کیوں کہ امن و امن اس وقت تک  قائم نہیں ہوسکتا  جب طاغوت کی قوت کو ختم نا کیا جائے اور زمین سے فتنے کو بالکل مٹا نا دیا جائے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:

(وَقٰتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ لِلّٰهِ‌ؕ فَاِنِ انتَهَوۡا فَلَا عُدۡوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ)سورة البقرہ: 193

اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہوجائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر کوئی زیادتی نہیں۔

         دین اسلام جغرافیائی حدود میں انسانیت کو مستقل طور پر بانٹنے والی حدود نہیں مانتا۔ وہ ایک عالمی انسانی برادری قائم کرنا چاہتا ہے جو ایک قانون کے تابع اور ایک مرکز سے وابستہ ہو۔ جس میں انسانوں کو گروہوں میں تقسیم کرنے والی چیز نسل، رنگ، زبان اور وطنی حدود نہ ہو بلکہ پوری انسانیت ایک خاندان بن جائے۔اگر کسی بنیاد پر ان میں فرق ہو تو وہ ایمان اور تقوی ہو۔

       عہد و پیمان کی پابندی بھی اسلامی ریاست کی بین الاقوامی پالیسی کا ایک اصول ہے۔ دین اسلام اس پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دیتا ہے۔

(يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِ‌ ؕ)سورة المائدہ: 1

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! عہد پورے کرو۔

          بین الاقوامی تعلقات میں اسلام بدلہ لینے کو جائز قرار دیتا ہے لیکن یہ لازم کر دیتا ہے کہ بدلہ اتنا ہی لیا جائے جتنا حق ہے اور ذرا بھی زیادتی نہ کی جائے۔ اگر درگزر اور حسن سلوک کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہ خوب تر ہے۔

(وَاِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِهٖ‌ۚ وَلَئِنۡ صَبَرۡتُمۡ لَهُوَ خَيۡرٌ لِّلصّٰبِرِيۡنَ‏ )سورة النحل: 126

اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی تمہیں تکلیف دی گئی ہے اور بلاشبہ اگر تم صبر کرو تو یقینا وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔

اس آیت کی روشنی میں سیاست خارجہ کا ایک اصول یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اسلامی حکومت کو دوسرے ممالک سے بدلہ لینے کی اجازت ہے لیکن حسن سلوک کی پالیسی قابل ترجیح ہے۔ رہی یہ بات کہ کس موقع پر کونسا رویہ اختیار کیا جائے تو اس کا فیصلہ حالات و واقعات اور حقائق پر مبنی ہے۔

مندرجہ بالا اصول اسلامی ریاست کی  خارجہ پالیسی کو واضح کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا اپنا ایک سیاسی نظام ہے۔ وہ ایک مخصوص مزاج کی ریاست قائم کرتا ہے، جو دور حاضر کی دیگر ریاستوں سے مختلف اور ان سے بہت اعلی اور بہتر ہے۔

Recent Posts

Related Posts

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *