Alhikmah International

مسلم ممالک پر مغرب کے فکری اثرات

                 انسان اپنی زندگی کسی نہ کسی عقیدہ ، نظریہ حیات اور آئیڈیالوجی کے تحت گزارتا ہے ۔شب و روز کی محنت ، عروج و زوال ، ترقی کی  نت نئی راہیں یہ سب کچھ انسان کو عقیدہ ہی فراہم کرتا ہے ۔ مسلمانوں کے لیے عقیدہ اور نظریہ حیات قرآن اور سنت ہیں ۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے حدیث مبارکہ میں ارشاد فرمایا:

تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ

“میں تمہارے درمیان دو چیزوں کو چھوڑ کر جا رہا ہوں ، جب تک انہیں تھامے رکھو گے گمراہ نہیں ہو گے ۔ کتاب اللہ اور اس کے نبی کی سنت”

                                                                               گزشتہ دوسو سال سے مغربی تہذیب بظاہر ترقی کرتی نظر آتی ہے۔ اس تہذیب کی بنیاد الحاد پر ہے ۔مغربی تہذیب نے انفرادی اور اجتماعی سطح ہر دو پہلوؤں سے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے ۔ مغربی تہذیب  نے مسلمانوں کو ان کے نظریہ حیات سے دور کر دیا ہے ۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ گزشتہ دو سو سال سے مسلم دنیا انتشار اور خلفشار کا شکار ہے ۔ مسلم حکمران زندگی کے اجتماعی شعبوں میں سیکولرزم کو پسند کرتے ہیں۔ فکری طور پر مسلمان پسماندہ ہیں۔  مصطفی کمال اتاترک جیسا سیکولر حکمران نے خلافت کا خاتمہ کر کے خود کو  مغرب کا آلہ کار ثابت کیا۔

                                                                               مغرب کی فکری یلغار کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سیکولرزم نے  اسلامی نظام ، اسلامی دینی تحریکوں   اور اسلامی اقدار و روایات کو تہس نہس کر کہ مسلمانوں کی ساکھ کو  بے حد نقصان پہنچایا۔ مسلمان جب اسلام سے دور ہوئے تو نیشنلزم اور پیٹریوٹزم ان کی جڑوں زور پکڑ گیا ۔ جمہوریت مسلم ممالک کی سیاست ٹھہری ۔ مغرب کی فکری چکا چوند کا عالم یہ ہے کہ وہاں سے اٹھنے والے نظریہ ہائے حیات کو معاشی نظاموں کے نام سے قبول کیا جانے لگا ۔

                                                                               مسلم معاشرے اپنی  اقدار و ورایات کو چھوڑ کر  مغربی اقدار و روایات کو اپنانے لگے ۔ مسلمان اسلامی تہذیب کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کی نقالی کرنے لگے ۔چنانچہ آزادی اور مساوات  جیسے نعرے  مسلم معاشروں میں پروان چڑھنے لگے ۔ جس کے نتیجے میں کو ایجوکیشن ، بے حیائی ، حرص پسندی  کو فروغ ملا ۔

                اگر صورت حال یہی رہی تو اسلامی معاشرہ “الحادی معاشرہ ” میں تبدیل ہو جائے گا ۔شب روز کی بڑھتی ہوئی  دین سے دوری  مسلمانوں کو مغربی تہذیب کا رسیا بناتی جارہی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم ممالک میں اسلام بیداری  کو فروغ دیا جائے ، معاشرے میں فکر و عمل کی یکسوئی پیدا کی جائے ۔ الحاد کے پنپنے کے تمام رستوں کو بند کر دیا جائے ۔  معاشرے میں قرآن و سنت کی آبیاری کی جائے ۔ اللہ تعالی ہمیں دین حنیف کی سمجھ عطاء فرمائے۔

Recent Posts

Related Posts

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *